Categories

Site Information

 Loading... Please wait...

Blog

خراٹوں کا بہترین علاج

Posted by Saloni Editorial Head (Umair Hassan) on

خراٹوں کا بہترین علاج آپ کے دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس ہے

جرمنی کے ایک معروف طبی جریدے کی رپورٹ کے مطابق دانتوں کے ڈاکٹر خراٹے اور اس سے جڑے مسائل سے دو چار افراد کے لیے مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔ خراٹے لینے کی بیماری بہت عام ہے، تاہم اس کے شکار زیادہ تر افراد کو بےبس محسوس کرتے ہیں۔ انہیں نہیں پتہ ہوتا ہے کہ وہ خراٹوں کا علاج کیسے کریں۔ نیند سے متعلق ایک اور بیماری اکثر لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوتی ہے، اسے "سلیپنگ ایپنیا" کہتے ہیں۔ اس میں مبتلا شخص کو دورانِ نیند سانس میں خلل محسوس ہوتا ہے۔ سانس چھوٹے چھوٹے وقفے سے چند سیکنڈز کے لیے رک جاتی ہے اور پھر ایک چونکا دینے والے عمل کے ساتھ بحال ہوتی ہے اور مریض جھٹکے سے جاگ جاتا ہے۔

اب ایک تازہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس بیماری اور خراٹوں کا علاج ڈینٹسٹ یا دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس ممکن ہے۔ دانتوں کا ڈاکٹر خراٹے اور سلیپنگ ایپنیا کے مریضوں کا علاج مریض کے نچلے جبڑے کے محراب میں کھپچیوں کی مدد سے ایک آلہ نصب کرکے کرتا ہے، تاہم یہ طریقہ علاج ہمیشہ کار آمد ثابت نہیں ہوتا، خاص طور سے ایسے مریضوں کا یہ علاج ممکن نہیں ہوتا جن کے منہ میں دانت کافی تعداد میں باقی نہیں رہے ہوتے کیونکہ یہ آلہ اس وقت نصب کیا جا سکتا ہے، جب مریض کے منہ کے کسی ایک جبڑے میں کم از کم آٹھ دانت مستقل ہوں، جن میں کراؤن دانت یا نوکیلے دانتوں کا ہونا اہم ہے۔

مریض سونے سے پہلے اس آلے کو اوپر اور نیچے کے جبڑے کے درمیان لگا لیتا ہے۔ دوران نیند یہ آلہ نیچے کے جبڑے اور زبان کو اوپر کے جبڑے کی نسبت باہر کی طرف دھکیل کر رکھتا ہے اور اس عمل کا مقصد مریض کی سانس کی نالی کے اوپر حصے کے لیے حلق تک کھلا رستہ فراہم کیا جائے تاکہ مریض کھل کر سانس لے سکے۔ اس طرح مریض خراٹے نہیں لیتا۔ مریض کو تاہم ہر رات سونے سے پہلے یہ آلہ اپنے جبڑے کے درمیان نصب کرنا پڑتا ہے اور اس آلے کو ہر رات استعمال سے پہلے دانتوں کے برش سے صاف کرنا پڑتا ہے۔

خراٹے سے بچنے یا اسے کم کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کروٹ میں لیٹا جائے۔ پیٹھ کے بل سونے سے خراٹے زیادہ آتے ہیں۔ خراٹے لینے والے اکثر مریض اوورویٹ یا زائدالوزن ہوتے ہیں۔ اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کو متوازن رکھنے سے بھی خراٹوں میں کمی لانا ممکن ہے۔

Back to Top