Categories

Site Information

 Loading... Please wait...

Blog

بھرپور صحت کے لیے مفید نسخے

Posted by Saloni Editorial Head (Umair Hassan) on

ہفتے میں چار انڈے کھائیں

ایک نئی ریسرچ کے مطابق ہفتے میں چار انڈے کھانے سے ذیابیطس ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ میں یونیورسٹی آف ایسٹرن فن لینڈ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا گیا ہے کہ کولیسٹرول سے بھرپور انڈوں کے ذریعے ذیابیطس کے امکانات کو چالیس فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ ریسرچ میں درمیانی عمر کے 2332 افراد کے کھانے پینے کی عادات کا مطالعہ کیا گیا جو ہفتے میں تقریباً چار انڈے کھاتے تھے۔ ان افراد کا ڈیٹا 1980 میں جمع کیا گیا تھا۔ ریسرچ میں بتایا گیا کہ ان افراد میں 38 فیصد ذیابیطس کا کم امکان تھا جو ہفتے میں ایک بھی انڈا نہیں کھاتے یا کم کھاتے ہیں۔

حضرات: موٹاپہ بھی مفید ہے

آپ نے کبھی موٹاپے کا کوئی فائدہ نہیں سنا ہوگا لیکن برطانوی سائنسدانوں نے یہ کہہ کر تاریخ بدل دی ہے کہ موٹاپہ خطرناک ذہنی بیماریوں میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے سائنسدانون نے تقریباً بیس لاکھ افراد کے طبی ریکارڈ کے تجزئیے کے بعد معلوم کیا ہے کہ قدرے زیادہ وزن والے افراد (جن کا باڈی ماس انڈیکس یعنی BMI تقریباً 25 سے 29 تھا) میں مختلف ذہنی بیماریوں کے مجموعے ڈیمنیشیا کا مسئلہ 18 فیصد کم پایا گیا۔ اسی طرح موٹاپے کے شکار افراد (جن کا باڈی ماس انڈیکس 30 سے زائد تھا) میں یہ بیماری 24 فیصد کم پائی گئی۔ موٹے افراد میں ڈیمنیشیا کے علاوہ الزائمرز کی بیماری بھی واضح طور پر کم پائی گئی۔

خبردار: فاسٹ فوڈ مضر صحت ہے

جو بچے فاسٹ فوڈ اور برگرز کھاتے ہیں ان کی ذہانت اور کسی کام کو کرنے کی رفتار دیگر افراد کی نسبت کم ہوتی ہے۔ یونیورسٹی آف الی نوئے کی جانب سے کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو بچے چکنائی سے بھرے ہوئے کھانے مثلاً برگر، پیزا، چپس وغیرہ کھاتے ہیں ان کی یاداشت کمزور ہوتی ہے جبکہ وہ کسی کام کو کرنے میں سستی دکھاتے ہیں۔ تحقیق میں ماہرین نے سات سے دس سال کے 150 بچوں کو ایسی گیمز دیں جس میں رنگوں اور مختلف طرح کی تشبہیات تھیں۔ یہ گیم اس طرح ڈیزائن کی گئی تھی جس کے ذریعے انسان کی توجہ میں تبدیلی کو جانا جا سکے اور ساتھ ہی ضرورت کو دیکھتے ہوئے ہمارے رد عمل میں تبدیلی کو جانچا جا سکے۔ روز مرہ کی بنیاد پر ہمیں کئی ایسی باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں ہمیں اپنے آپ کو دوسرے کی جگہ رکھ کر فیصلے کرنے پڑتے ہیں یا ان کی جگہ رکھ کر سوچنا ہوتا ہے۔ جو بچے چکنائی والی غذاؤں اور فاسٹ فوڈ کا استعمال کرتے ہیں انہیں بدلتے ہوئے حالات کو سمجھنے یا اپنے آپ کو دوسروں کی جگہ رکھ کر سوچنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ اسی طرح جسم میں زیادہ چکنائی کی وجہ سے اس کے اثرات براہ راست بچوں کے دماغ پر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کوئی بھی مشکل فیصلہ لینے میں تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔

Back to Top