Categories

Site Information

 Loading... Please wait...

Blog

یہ پانچ عادتیں آپ کو رکھیں صحت مند اور خوش باش۔۔۔ ہمیشہ

Posted by Saloni Editorial Head (Umair Hassan) on

کیا آپ صحت مند اور خوش باش زندگی چاہتے ہیں؟ کیونکہ وہ مقولہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا کہ صحت ہی دولت ہے، جس کے بغیر زندگی میں خوشی کا تصور ممکن ہی نہیں۔ یاد رکھیں کبھی بھی خود سے ایسے عہد نہ کریں، جنھیں آپ پورا کر ہی نہیں سکتے بلکہ بس اپنے طرزِ زندگی میں چند چھوٹی تبدیلیاں لاکر آپ اپنی صحت، مزاج، توجہ کو بہتر بناکر خوش باش زندگی کا مزہ لوٹ سکتے ہیں۔

کھڑے رہنے کی عادت

اگر آپ نے یہ جملہ سنا نہیں، تو جان لیں کہ بیٹھنے کی عادت آپ کو آہستہ آہستہ مار دیتی ہے۔ مختصر مدت کے لیے کرسی سے چپکے رہنا آپ کے پٹھوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ جسم میں دوران خون کی گردش کو متاثرکرتی ہے اور جسمانی ورم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ طویل المدتی بنیادوں پر بات کی جائے تو یہ طرزِ زندگی موٹاپے کا شکار تو بناتا ہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امراض قلب اور ذیابیطس جیسی جان لیوا بیماریاں بھی جسم کا حصہ بن جاتی ہیں اور کینسر کی مختلف اقسام بھی آپ کو دبوچ سکتی ہیں۔

کولڈ ڈرنکس سے دوری

انسانی دماغ ہمیشہ سے مٹھاس کا دیوانہ رہا ہے، مگر ماضی میں کبھی ہمارے آباء و اجداد کو بہت زیادہ چینی اور کیلوریز سے بھرپور کولڈ ڈرنکس جیسی چیز نہیں ملی تھی۔ اس کا بہت زیادہ استعمال موٹاپے کا شکار کرتا ہے جبکہ اس سے پیدا ہونے والا کیمیائی رد عمل دماغ کو بتاتا ہے کہ ہم کچھ اچھا کر رہے ہیں حالانکہ ایسا ہوتا نہیں، اس کے نتیجے میں چینی کا استعمال ایک عادت بن جاتی ہے، جسے ترک کرنا ناممکن سا ہو جاتا ہے، جو ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور فالج وغیرہ کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

باہر کی سیر

گھروں اور دفاتر سے کچھ دیر کے لیے باہر نکلنا مزاج کو خوشگوار بنانے اور تخلیقی سوچ کو جلا دینے کا تیز رفتار طریقہ ہے۔ گھر سے چہل قدمی کو معمول بنا لینے سے ناصرف یاداشت مضبوط ہوتی ہے بلکہ اس سے خواتین میں سرطان کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔

کھڑکی کے قریب رہنا

کھڑکی کے قریب باہر کا نظارہ کرنے کے ساتھ یہ عادت آپ کے مزاج کو بھی خوشگوار بناتی ہے اور دن بھر دماغ کو چوکس رکھنے اور رات کو جلد سونے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ قدرتی روشنی میں رہنے سے خاص طور پر دن کے آغاز میں، جسم کی اندرونی گھڑی کو درست طریقے سے کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جن افراد کے دفاتر کھڑکیوں سے محروم ہوتے ہیں انہیں راتوں کو سونے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے اور اوسطاً ہر ماہ پندرہ گھنٹے کی نیند سے محروم رہتے ہیں۔

مقصد کو تحریر میں لانا

مثبت سوچ طاقتور ہو سکتی ہے، مگر اپنے تصور کو خیال کی حد تک رکھنا مقصد کے حصول کے لیے کافی ثابت نہیں ہوتا۔ ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اپنے مثبت خیالات اور اپنے ذاتی رویے کے بارے میں لکھنا زندگی کے لیے طے کردہ مقاصد کا سب سے بہترین راستہ ثابت ہو سکتا ہے، جس سے صحت کی بہتری کا راستہ بھی کھل جاتا ہے۔

Back to Top