Categories

Site Information

 Loading... Please wait...

Blog

دلیہ کھانے کے مفید طبی فوائد

Posted by Saloni Editorial Head (Umair Hassan) on

ماہرین کہتے ہیں کہ اناج ایک ایسی جادو کی گولی ہے جو وٹامنز، معدنیات، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹ سے بھری ہوئی ہے۔ اسی لے اناج کو صحت کے لیے ایک خزانہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ ہائی فائبر یا زیادہ ریشوں والی خوراک کے صحت پر فوائد کے بارے میں لوگوں کو بہت پہلے سے علم ہے لیکن اس نئی تحقیق میں تجزیہ کاروں نے معلوم کیا ہے کہ کیا اناج کھانے ے صحت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں یا نہیں؟ ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کو اس نئے مطالعے سے پتا چلا ہے کہ ہر روز دلیہ کا ایک چھوٹا پیالہ کھانا لمبی اور صحت مند زندگی کی کلید بن سکتا ہے۔

غذائی سائنس دانوں کے مطابق

سائنس دانوں نے ایک وسیع پیمانے پر کی جانے والی تحقیق سے نتیجہ اخذ کیا کہ جو لوگ خالص اناج سے بنی غذائیں کھاتے ہیں ان میں دل کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے جس کی وجہ سے دل کی بیماریوں سے مرنے کے امکانات بھی کم ہوجاتے ہیں۔ سائنسی جریدے "جرنل جاما انٹرنل میڈیسن" میں شائع ہونے والی تحقیق سے وابستہ تحقیق کاروں نے چودہ برس سے زائد عرصے تک 100,000 افراد کی غذا اور صحت کے نتائج کی نگرانی کی۔ یہ تمام لوگ 1984 میں صحت مند تھے جب ان کا اندراج ہوا تھا لیکن جب 2010ء میں ایک بار پھر ان کی صحت کے بارے میں معلومات اکٹھی کی گئی تو پتا چلا کہ شرکائ میں سے 26,000 لوگوں کی موت واقع ہو گئی تھی، تاہم جن لوگوں کی خوراک میں اناج، براؤن چاول، مکئی، دلیہ اور جو زیادہ مقدار میں شامل تھا، وہ بہت سی بیماریوں بالخصوص دل کے مرض سے محفوظ لگ رہے تھے۔

خالص اناج، بھرپور صحت

تحقیق کاروں نے بتایا کہ نتائج سے ظاہر ہوا کہ خالص اناج کی 28 گرام یا ایک چھوٹا پیالہ ریشہ دار غذا مثلاً دلیہ دن میں ایک بار کھانے سے موت کے خطرے کو پانچ فیصد اور دل کے امراض کے خطرے کو 9 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ سے منسلک ڈاکٹر ہانگیووو نے کہا کہ ہمارا مطالعہ سے موجود غذائی ہدایات کی حمایت ہوئی ہے جس میں اناج کی کھپت میں اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ نتائج نے ایسا امید افزا ثبوت فراہم کیا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ خالص اناج کا کھانا کھانے کے فوائد سے متوقع زندگی میں توسیع ہو سکتی ہے۔

پروٹین کی اضافی خوبیوں سے مالا مال

مطالعے کے مصنف ہانگیوود کے مطابق بھو سے والی اناج میں چوکر اور جراثیم رہ جاتے ہیں اسی لیے اس میں صاف کئے ہوئے اناج مثلاً سفید چاول، سفید پاستا، سفید آٹے کے مقابلے میں 25 فیصد سے زائد اضافی پروٹین ہوتا ہے۔ بقول ڈاکٹر ہانگیوووپچھلے مطالعے میں دکھایا گیا تھا کہ خالص اناج کا استعمال کرنے سے ہڈیوں کی کثافت، بلڈپریشر میں کمی اور پیٹ میں صحت مند بیکٹیریا کو فروغ ملتا ہے اور ذیابیطس کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ صرف اوٹ یا جئی میں ایک فائبر "بیٹاگلوکن" ہوتا ہے جسے کولیسٹرول کی سطح کو کم رکھا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے دل کے امراض کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ جب جسم میں قدرتی قوت مدافعت بڑھانے کی بات آتی ہے تو بیٹا گلوکن صحت مند رہنے کی جنگ میں بیٹا گلوکن ایک اہم ہتھیار ہوتا ہے لیکن چونکہ ہمارا جسم قدرتی طور پر بیٹا گلوکن صحت مند رہنے کی جنگ میں بیٹا گلوکن ایک اہم ہتھیار ہوتا ہے لیکن چونکہ ہمارا جسم قدرتی طور پر بیٹا گلوکن پیدا نہیں کرتا ہے۔ اس لیے اس مرکب کو حاصل کرنے کے لیے واحد راستہ بیرونی ذرائع ہوتے ہیں جو بالخصوص اناج، خمیر، گندم اور مشروم اور بالخصوص جئی میں بھرا ہوتا ہے۔

زنک، میگنیشیئم اور آئرن پر مشتمل غذا

جئی کو بنیادی طور پر بیٹا گلوکن کی وجہ سے دل کے لیے صحت مند خوراک کہا جاتا ہے۔ دلیے کو برسوں سے ایک غذائیت بخش ناشتہ خیال کیا جاتا ہے جو ریشہ دار غذا ہے جس سے دیر تک بھوک نہیں لگتی ہے اور آپ بہتر محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کھلاڑیوں اور ڈائٹنگ کرنے والوں کا صبح کا ناشتہ میں اناج انتخاب ہوتا ہے۔ اناج بہت سی غذائی ہدایات میں بڑے پیمانے پر شامل ہے کیونکہ یہ زنک، تانبا، میگنیشیئم، آئرن اور تھائیم پرمشتمل ہوتا ہے۔

خیال کیا جاتا کہ خالص اناج کھانے سے جسم میں مانع تکسید مادہ یا اینٹی آکسیڈنٹس کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے جو خلیوں کو فری ریڈیکلز نامی مالیکیولز سے بچاتا ہے۔ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ اگر زیادہ لوگ اناج کو غذا کے طور پر شامل کرتے ہیں تو ہر سال ہزاروں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

Back to Top