Categories

Site Information

 Loading... Please wait...

Blog

دل کی چند جان لیوا بیماریوں کے اسباب

Posted by Saloni Editorial Head (Umair Hassan) on

کوئی بھی مرض اچانک حملہ آور نہیں ہوا کرتا بلکہ مختلف قسم کے اشاروں اور علامتوں کے ذریعے سے وہ پہلے ہمیں باخبر کرتا ہے۔ سانس پھولنا، سینے میں درد کا شدت سے احساس ہونا، بازوؤں میں درد کا آنا، دل کی دھڑکن کا معمول سے تیز ہونا، سر چکرانا یا بے ہوشی طاری ہونا، سوزش بالخصوص پاؤں پر ورم کا مسلسل رہنا جیسی علامات اگر گاہے بگاہے نمودار ہونے لگیں تو اپنے معالج سے فوری رجوع کریں تاکہ بروقت مرض سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کی جا سکیں۔

دل کا دورہ

دل کا دورہ پڑنے کا سب سے بڑا سبب شریانوں کی تنگی، اور دورانِ خون میں رکاوٹ پیدا ہونا ہے۔ دل کو اپنی سرگرمیاں اور کارکردگی جاری رکھنے کے لیے ایندھن کی مسلسل ضرورت ہوتی ہے۔

دل اپنی یہ غذائی ضرورت آکسیجن اور ہماری کھائی جانے والی خوراک سے شریانوں کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ دل کو خون کی شکل میں غذا فراہم کرنے والی شریانیں ہماری غذائی بد احتیاطی سے فاسد اور چربیلے مادے جم جانے سے تنگ ہو جاتی ہیں۔ شریانوں میں تنگی واقع ہو جانے سے بتدریج رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ جب دل کو مطلوبہ خون کی مقدار باہم نہیں پہنچ پاتی تو وہ کئی طریقوں سے اس کا اظہار کرتا ہے۔ یوں دل کے جس پٹھے کو خون کی رسد رک جاتی ہے وہ مردہ ہو کر دل کے دورہ پڑنے کا سبب بن جاتا ہے۔ شریانوں کی تنگی کی سب سے بڑی وجہ ہائی بلڈ پریشر بنتا ہے۔

خوردنی نمک کی زیادہ مقدار، سیر شدہ چکنائیوں کا غیر ضروری استعمال، سگریٹ و چائے اور شراب نوشی، ورزش کا نہ کرنا، بسیارگوشت خوری، میٹابولزم کی خرابی، افسردگی وغم، ذہنی تناؤ و اعصابی دباؤ اچانک صدمہ، کولیسٹرول کی زیادتی، ٹرائیگلائسرائیڈز اور کاہل و تن آسان زندگی بھی دل کا دورہ پڑنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

وجع القلب یا دل کا درد

دل کا درد افعالِ قلب کی احتجاجی کیفیت کا نام ہے۔ جب دل کے پٹھوں کی کمزوری ہو، دل کو اپنی بساط سے زیادہ کام کرنا پڑے یا پھر اضافی چربیوں سے شریانیں تنگ ہو چکی ہوں تو انجائنا کی علامات سر اٹھانے لگتی ہیں۔ جب ہم ورزش یا کوئی محنت طلب کام کرتے ہیں تو ایسے میں ہمارے جسم کو معمول سے زیادہ آکسیجن و غذائیت درکار ہوتی ہے۔ طلب میں اضافہ ہونے سے دل کو رسد بھی بڑھانی پڑتی ہے۔ یوں دل کو اضافی کارکردگی کرنی پڑ جاتی ہے جو شریانوں کی تنگی، پٹھوں کی کمزوری کی وجہ سے دل کے درد کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ دل کا درد چھاتی کی درمیانی ہڈی کے اوپری حصے میں محسوس ہوتا ہے اور چھاتی کے ارد گرد پھیل جاتا ہے۔ شدت کی صورت میں یہ گردن، جبڑوں، کندھوں اور بازوؤں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔

دل کا درد ٹیس کی بجائے شدید دکھن کا احساس لیے ہوتا ہے۔ مریض اسے لگاتار کچلنے والا، تکلیف دہ اور سخت کہتا ہے۔ انجائنا میں سردی کا احساس، پسینہ چھوٹنے اور دم کشی کی سی کیفیت ہوتی ہے۔ دل کے درد کی وجہ سگریٹ نوشی، بدہضمی، دائمی قبض، مے نوشی، بلند فشارالدم، جوش و غصہ، رنج و الم، مستقل بے خوابی، شوگر، پٹھوں کے اکڑاؤ اور آتشک کے اثراتِ بد بن سکتے ہیں۔

خفقانِ قلب

خون کی مقدار اور دباؤ میں عدم توازن ہونے سے دل کی دھڑکن کی معتدل رفتار میں تبدیلی واقع ہو جایا کرتی ہے۔ طب میں اسے خفقانِ قلب یا بے قاعدہ دل کی دھڑکن کہا جاتا ہے۔ دل کی دھڑکن کو باقاعدہ رکھنے کے لیے اس کی رفتار میں توازن ہونا لازمی خیال کیا جاتا ہے۔ جب دل کے خانوں میں سست روی کی وجہ سے خون صحیح طرح سے نہیں بھرپاتا اور وہ سکڑ کر خون خارج کرنے لگتے ہیں تو دل کے پھیلاؤ اور سکڑاؤ کی کیفیات میں عدم توازن دل کی دھڑکنوں میں بے ترتیبی پیدا کرکے خفقانِ قلب کا مرض ظاہر کرنے لگتا ہے۔ اس مرض میں دل اسقدر بآوازِ بلند دھڑکتا ہے کہ مریض کو خود بھی ہتھوڑا نما آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں۔ دل زور زور سے دھڑکتا ہے اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگتا ہے۔ گھبراہٹ اور بے چینی کا غلبہ ہوکر مریض پر بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے۔ یہ عارضہ کمئی خون، شراب، چرس، چائے اور سگریٹ نوشی وغیرہ سے لاحق ہوا کرتا ہے۔

بعض افراد کو ذہنی دباؤ اور اعصابی تناؤ کے متواتر رہنے سے بھی خفقانِ قلب کا مرض اپنی گرفت میں لے لیا کرتا ہے۔

اختلاج القلب

اس مرض میں دل کی دھڑکن طبعی حالت سے زیادہ ہو کر پھڑکن کا روپ دھار لیتی ہے۔ دل دھڑکنے کی رفتار زیادہ ہوکر دل پھڑ پھڑانے لگتا ہے۔ سرگھومتا دکھائی دیتا ہے۔ دل میں درد، سانس میں تنگی اور کانوں میں بھنبھناہٹ کی سی کیفیت ہونے لگتی ہے۔ اس مرض میں موت واقع ہونے کے امکانات کافی حد تک کم ہوا کرتے ہیں۔ اس مرض کے لاحق ہونے کی وجوہات میں اعصابی کمزوری، منشیات کا بے دریغ استعمال اچانک غم یا خوشی سے پالا پڑنا، چائے کی زیادتی اور کثرتِ محنت کے کام کرنا وغیرہ ہو سکتی ہیں۔

شریانوں کی سختی

دل کے بائیں حصے میں ورم کی کیفیت پیدا ہوکر شریانوں کی دیواروں کو موٹا کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔ اس مرض میں دل فیل ہوکر موت واقع ہونے کا کافی خطرہ موجود ہوتا ہے۔ شریانوں میں سختی پیدا ہونے کی وجہ ہائی بلڈ پریشر، گوشت کی کثرت، شراب، چائے اور سگریٹ نوشی کی عادات اور ڈھلتی عمر کے اثرات شامل ہیں۔

دل کے پٹھے کی خرابی

اس عارضے میں دل کے پٹھے میں ورم پیدا ہوجاتا ہے، جو کہ دل کی کارکردگی کو بالواسطہ طور پر متاثر کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ عارضہ بھی زندگی کے لیے خطرناک مانا جاتا ہے۔ علاج معالجے میں ہمیشہ احتیاط کرنی چاہیے، گھریلو ٹوٹکوں اور نیم حکیموں کے چکر میں پڑکر زندگی داؤ پر نہیں لگا دینی چاہیے۔ اس مرض میں دل کے مقام پر درد اور بھاری پن کا احساس ہوتا ہے۔ طبیعت میں ایک عجیب سی بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ دل کے افعال میں ظاہری طور پر نقص واقع ہوکر علامات نمودار ہونے لگتی ہیں۔ جب اس بیماری میں شدت پیدا ہوتی ہے تو مریض کی حالت میں ہذیان کی کیفیت طاری ہوکر بخار ہو جاتا ہے۔

دل کے والوز کی خرابی

دل کی جھلی میں سوزش پیدا ہونے سے دل کے چیمبروں یا والوز کی کارکردگی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہا کرتی۔ جدید طب اسے انفیکشن کے نام سے موسوم کرتی ہے۔ دل کی جھلی کی سوزش نقصان دہ بیکٹیریاز کے اجتماع سے ہوتی ہے۔ اس مرض کی تشخیص جتنی جلدی ممکن ہو سکے ہو جانی چاہیے ورنہ تاخیر کی صورت میں سرجری کے بے غیر کوئی چارہ کار نہیں رہ جاتا۔ سرجری کے ذریعے سے دل کا متاثر حصہ تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اگر بروقت اقدام نہ کیا جائے تو مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ والوز کی خرابی میں ہائی بلڈ پریشر، مستقل کھانسی دل کی دھڑکنوں میں بے ترتیبی، تنگئی سانس اور بیہوشی وغیرہ کی علامات سامنے آتی ہیں۔

Back to Top