Categories

Site Information

 Loading... Please wait...

Blog

مچھلی اور روزہ مرہ کی غذا کے متعلق چند اہم حقائق

Posted by Saloni Editorial Head (Umair Hassan) on

مارے معاشرے میں ادھورے سچ کی بہت اہمیت ہو چکی، نیز ہم خود کو تکلیف سے نہیں گزارتے کہ پورا سچ معلوم کر سکیں۔ مثال کے طور پر جونہی امریکی و یورپی میڈیا نے مچھلی کے فوائد بتانا شروع کیے، ہم نے بھی دکانوں کا رخ کرلیا۔ دل کے مریضوں کو یہ کہتے سنا گیا کہ مچھلی دل کے لیے بہترین غذا ہے۔ اب بھلا کون اپنے دماغ کو غلطاں کرتا پھرے کہ سائنس دانوں نے جس مچھلی کی تعریف کی ہے کیا یہ وہی ہے؟ اور جس طریقے سے پکانے کا کہا ہے، کیا یہ اسی طرح پکائی گئی؟

مچھلی کی چند خوبیاں

مچھلی کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے اومیگا 3 کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اس طرز کی چکنائی دل کی شریانوں میں لوتھڑے نہیں بننے دیتی اور خون پتلا رکھتی ہے۔ پہلے سے بنے لوتھڑے یا تھکے نرم کرکے توڑ دیتی ہے۔ ہر مہینے محض دوبار مچھلی کھانے سےاچانک ہارٹ فیل ہونے کے امکانات 50 فیصد کم ہو جاتے ہیں۔ دل کے علاوہ اومیگا تھری دماغ، آنکھوں، جلد اور معدے و آنتوں کے لیے بھی نعمت ہے۔ یہ چکنائی خون میں کولیسٹرول کم کرتی، ذیابیطس قسم دو کو روکتی اور زندگی کا صحت مند دورانیہ لمبا کرتی ہے۔

مچھلی کی چند مزیدار اقسام

مندرجہ بالا تمام باتیں درست ہیں، لیکن کبھی آپ نے غور کیا، ذکر تو مچھلی کا ہو رہا ہوتا ہے مگر ترغیب اومیگا تھری 500 ملی گرام روزانہ لینے کی دی جا رہی ہے؟ ساتھ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ چکنائی صرف سائمن، کاڈ، سارڈین جیسی سمندری مچھلیوں کی چربی میں ملتی ہے۔ اب جونہی ہم ان خصوصی مچھلیوں کی طرف نگاہ دوڑائیں تو پتا چلتا ہے، یہ تو پاکستان میں دستیاب ہی نہیں۔ اب کیا کریں؟ پس وہی کریں جو مغربی ملٹی نیشنل کمپنیاں چاہتی ہیں یعنی کے ان کے بنائے مہنگے فوڈ سپلی منٹ استعمال کریں، جن میں مندرجہ بالا مچھلیوں کا تیل بھرا ہے۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ صحت کی خوبصورت داستان کا انجام دکانداری پر ہوتا ہے۔

اور ہم ہیں کہ بازار میں گھٹیا ترین گھی یا استعمال شدہ تیل میں تلی گئی نہ تو سمندری نہ دریائی بلکہ صرف فارمی مچھلیاں کھا کر جیب ہلکی کرتے اور سمجھتے ہیں کہ ہمیں اومیگا تھری چکنائی حاصل ہوگئی۔ قارئین کرام! ذہن میں رکھیے، جتنے گہرے سمندر کی مچھلی ہو، اتنی ہی اس میں چربی زیادہ ملے گی۔ یہی چربی اومیگا تھری کی حامل ہے۔ سمندر کی بالائی اور درمیانی سطح میں پائی جانے والی مچھلیوں میں چربی کم ہوتی ہے۔ لہذا اومیگا تھری بھی کم! نیز ان میں پارہ (مرکری) اور سیسہ (لیڈ) بھی زیادہ ہوتا ہے۔ لہذا بیماریاں بھی زیادہ۔ اگر سمندری مچھلی نہیں مل رہی، تو دریائی ہی سہی، یہ سب سے بہترین ہے۔ تازہ پانی کے باعث اس میں آلائش بھی کم ہوتی ہے اور غذائیت سمندری مچھلی جیسی۔ صرف اومیگا تھری نہیں ہوتا، مگر باقی خوبیاں موجود ہیں مثلاً اعلیٰ درجہ کی پروٹین! معیار کے لحاظ سے سب سے کم تر فارمی مچھلی ہے۔

کیا اچار مفید ہے؟ برعظیم پاک و ہند کے علاوہ دنیا بھر میں صدیوں سے اچار دستر خوان کی زینت بن رہا ہے۔ اچار بنانے کے کئی طریقوں میں زیادہ مستعمل تیل میں کچی سبزیوں کا ڈالنا، پانی میں مسلہ جات ملاکر سبزیاں وپھل ملانا یا سرکہ کے اندر پھول گوبھی، پیاز یا لہسن وغیرہ کا اچار بنانا وغیرہ شامل ہیں۔ تینوں طرح کے اچار میں ہم جو بھی سبزی و پھل، ڈالیں، ان کے غذائی اجزا کسی حد تک ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس کا انحصار تین باتوں پر ہوتا ہے۔

اول اچار ڈالنے کے لیے کس طرح کا مائع (تیل، پانی، سرکہ) استعمال کیا گیا۔ دوم اس میں سبزیاں وغیرہ کتنے عرصے تک ڈوبی رہیں اور سوم اچار میں کھٹاس ڈالی گئی یا مٹھاس؟ جہاں تک مائعات کی قسم کا تعلق ہے، تو پانی میں سبزیوں اور پھلوں کے وٹامن سی اور بی اس میں گھل جاتے ہیں۔ تیل میں سبزیوں سے وٹامن اے، ڈی، ای اور کے نکل کر اس میں جذب ہوتے ہیں۔ سرکے میں موجود تیزاب سبزیوں اور پھلوں میں موجود پروٹین اورمعدنیات کی توڑ پھوڑ کرتا ہے۔ لہذا اچار کی مدت جتنی زیادہ ہو، تمام غذائی اجزا کا نقصان بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ بالفاظ دیگر کچی سبزیوں اور پھلوں میں وٹامن، معدنیات اور لحمیات کی مقدار کسی صورت اچار میں برقرار نہیں رہ سکتی۔ مندرجہ بالا غذائی اجزا کے علاوہ حرارے (توانائی) بھی خاصی مقدار میں ضائع ہوتے ہیں۔ پس ہم اچار کی شکل میں جو کچھ کھا رہے ہیں، وہ صرف ذائقہ دیتا ہے غذائیت نہیں۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ مسالہ جات کے زائد استعمال سے بلڈ پریشر زیادہ ہو جائے۔ یا پھر میٹھے اچار (مثلاً پھلوں وغیرہ) سے ذیابیطس چمٹنے کا خطرہ رہتا ہے۔

اچار کا ایک فائدہ بھی ہے۔ وہ یہ کہ اس میں پھل و سبزیاں چھلکوں سمیت ڈالی جاتی ہیں۔ لہذا معدنیات و وٹامن کا خزانہ عموماً پکی سبزیوں سے زیادہ ہوتا ہے بشرطیکہ اچار زیادہ پرانا نہ ہو۔ چونکہ سبزیوں، پھلوں پر سپرے کا اثر بھی چھلکے پر زیادہ ہوتا ہے لہذا اچار کے مائعات وقت کے ساتھ ساتھ اس کا اثر زائل کر دیتے ہیں۔ ذہن میں رکھیے کہ مربے اور چٹنیاں وغیرہ بھی اچار ہی کا حصہ ہیں۔

نشاستہ دار غذا

کیا مٹی کی ہنڈیا پریشر ککر سے بہتر ہے؟ غذا کے اندر غذائیت (Nutrition) بشکل پروٹین، چکنائی، نشاستہ، وٹامن، معدنیات اور پانی موجود ہوتی ہے۔ کھانا پکانے کے دوران یہ غذائیات ضائع ہونے کا انحصار چھے عوامل پر ہے۔ بلند درجہ حرارت، طویل عرصے تک حرارت دینا، روشنی، ہوا، پانی میں بھگونا اور کھیت یا میں پکنے کے دوران کا وقفہ۔ بعض غذاؤں پر سارے عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔

تیز درجہ حرارت کے نقصانات

پریشر ککر استعمال کرنے کا مقصد وقت بچانا ہے۔ اس لیے بلند درجہ حرارت میں کھانا پکایا جاتا ہے۔ مٹی کی ہنڈیا کے پیچھے مقصد کھانے کا ذائقہ بنانا ہے۔ لہذا کم درجہ حرارت پر دیر تک کھانا پکایا جاتا ہے۔ اور اگر غذائیت بچانا ہے، تو دونوں طریقے غلط ہیں کیونکہ تیز درجہ حرارت اور براہ راست غذا کا پریشر ککر کی دھاتی دیوار سے اتصال غذائی اجزا کی تباہی کا باعث بنتا ہے جن میں پروٹین خصوصاً لائسین (Lysine) شامل ہے۔ کم درجہ حرارت مگر مسلسل ملنے سے بھی غذائی اجزا کا اسی طرح نقصان ہوتا ہے جیسا پریشر ککر میں۔ ہاں ہنڈیا سے ذائقے میں انفرادیت ملتی ہے جو پریشر ککر سے لینی ذرا مشکل ہے۔

قارئین کو شاید عجیب لگے مگر حقیقت یہ ہے، اگر مٹر کو ڈیڑھ گھنٹے تک 66 ڈگری سینٹی گریڈ تک پکایا جائے، تو 20 فیصد لائسین ضائع ہوتی ہے۔ مگر اسی درجہ حرارت پر ڈھائی گھنٹے پکانے سے چالیس فیصد ضائع ہو جاتی ہے۔ ہمارا خیال ہے، لائسین جیسے امائنو ایسڈ اور دیگر وٹامن طویل عرصہ کم درجہ حرارت پر پکانے سے تقریباً تمام ضائع ہو سکتے ہیں۔ ہنڈیا پر آہستہ کھانا پکنے کا تب ہی فائدہ ہے کہ اس پر ڈھکن رکھا جائے۔ دراصل کئی غذائی اجزا کم درجہ حرارت پر غذا سے جدا تو ہو جاتے ہیں مگر ڈھکن موجود ہونے کے باعث شوربے (یا پانی) میں ہی موجود رہتے ہیں۔ پس غذائیت کے حوالے سے دیکھا جائے، تو ہنڈیا اور ککر میں خاص فرق نہیں۔ ہاں ذائقے کے لحاظ سے ہنڈیا قدرے بہتر ہے، لیکن صرف ان لوگوں کے لیے جو ہنڈیا کے ذائقے سے واقف ہوں۔

Back to Top